Caste Census: آندھراپردیش اسمبلی میں او بی سی مردم شماری کرانے پر قرارداد منظور

Reading Time: 2 minutes

آندھرا پردیش اسمبلی (Andhra Pradesh Assembly) نے منگل کو متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی جس میں مرکز سے درخواست کی گئی کہ وہ دیگر پسماندہ طبقات (OBCs) کی آبادی کی مردم شماری کے لیے ذات پر مبنی مردم شماری (caste-based census) کرائے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ملک بھر میں ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کا مطالبہ بڑھتا جا رہا ہے۔ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار (Nitish Kumar) نے ریاست بہار میں اسی ضمن می پہل کرتے ہوئے ایک آل پارٹی وفد کی قیادت کی جس نے 23 اگست کو وزیر اعظم نریندر مودی (Narendra Modi) سے ملاقات کی تاکہ یہ مطالبہ اٹھایا جا سکے۔

ذات کی بنیاد پر مردم شماری کی تاریخ:

تجزیہ نگاروں کے مطابق انگریزوں نے 1881 سے 1931 تک کی دہائیوں کی مردم شماری میں ذاتوں کی گنتی کی لیکن اس کے بعد یہ عمل بند کر دیا گیا۔ اس کے بعد سے مردم شماری میں درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد شمار کی گئی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ او بی سی ہندوستان کی آبادی کا 50 فیصد سے زیادہ ہیں۔

آندھراپردیش کے پسماندہ طبقات کے وزیر چیلبوبینا سری نواسا وینو گوپالا کرشنا (Chelluboyina Srinivasa Venugopala Krishna) نے قرارداد پیش کی، جسے صوتی ووٹ کے ذریعے منظور کیا گیا۔ اس دوران حزب اختلاف تلگو دیشم پارٹی (Telugu Desam Party ) کارروائی سے دور رہی۔

قرارداد میں کیا کہا گیا؟

قرارداد میں کہا گیا کہ ’’ریاستی قانون ساز اسمبلی کا متفقہ خیال ہے کہ ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کرانے کی ضرورت ہے تاکہ تمام طبقات کے لوگوں کے ساتھ مساوی انصاف کو یقینی بنایا جا سکے جیسا کہ ہندوستانی آئین کے دیباچے میں دیا گیا ہے۔ سنہ 2021 کی عام مردم شماری کے حصے کے طور پر درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور اقلیتوں کے ساتھ دیگر پسماندہ طبقات کی گنتی ضروری ہے‘‘۔

اس میں مزید کہا گیا کہ پسماندہ طبقات کی ترقی کے لیے مختلف فلاحی اور ترقیاتی اسکیموں کو شروع کرنے کے لیے درست اعدادوشمار کو برقرار رکھنا ضروری ہے، اس کے علاوہ او بی سی میں غریبوں کی شناخت اور انھیں تعلیم اور روزگار کے لیے فوائد فراہم کرنے جیسے فیصلہ کن اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔کرشنا نے او بی سی سماج کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ حکومت سے مناسب فوائد حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ کرشنا نے اس بات پر زور دیا کہ ان حصوں کا صحیح ڈیٹا ہونا ضروری ہے تاکہ فلاحی اسکیموں کے فوائد ان تک پہنچیں۔