زرعی قوانین کے سبب کسانوں کو دکھ پہنچانے کیلئے وزیر اعظم کو معافی مانگنی چاہئے : کانگریس

Reading Time: 2 minutes

کانگریس نے کہا ہیکہ آنے والے ریاستی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو ‘ شکست کے خوف ‘ نے وزیراعظم نریندر مودی کو تین زرعی قوانین کی منسوخی کا فیصلہ لینے پر مجبور کیا ہے۔ کانگریس نے وزیر اعظم سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ کسانوں کو پہنچائے گئے ‘ درد ‘ کیلئے وہ ان سے معافی مانگیں۔ کانگریس کے جنرل سیکرٹری اور چیف ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے مرکزی حکومت سے پانچ سوالوں کسانوں کو ایم ایس پی ( MSP ) دینے سے متعلق روڈ میپ اور آگے کی حکمت عملی، کسانوں کی آمدنی کو دوگنی کرنا اورانہیں قرض سے آزاد کرنے کے بارے میں جواب طلب کئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ‘ کسان مخالف ‘ بی جے پی کی طاقت اور اسکے سرمایہ کار دوستوں کی آج ہار ہوئی ہے اور آج کا دن مودی کے غرور کی شکست ہوئی ہے۔ تین زرعی قوانین کی منسوخی کے وزیر اعظم کے اعلان کے بعد کانگریس لیڈر سرجے والا نے نئی دہلی میں آج ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ‘ بی جے پی اور وزیر اعظم کا غرور کسانوں کے آگے جھکنا تھا لیکن ملک انکے گناہ کومعاف نہیں کریگا۔ لوگ سمجھ گئے ہیں کہ انڈیا اور اسکے شہریوں کی جیت بی جے پی شکست میں ہے۔

سرجے والا نے کہا کہ ‘ مودی حکومت اور وزیر اعظم مودی نے لوگوں کے سامنے اپنا جرم قبول کرلیا ہے اور اب وقت آگیا ہیکہ عوام انہیں اس جرم کی سزا سنائے۔ عوام کو ایک بات سمجھ میں آگئی ہیکہ بی جے پی کی ہار میں ملک کی کامیابی ہے۔’

کانگریس لیڈر نے الزام عائد کیا کہ ‘ مودی جی کوآنے والے الیکشن میں اپنی ناکامی نظر آرہی ہے اس خوف نے انہیں یہ فیصلہ کرنے اور اپنی ‘ راج ہٹ ‘ ( ضد ) چھوڑنے پر مجبور کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم اُن تمام 700 کسانوں کی موت کیلئے ذمہ دار ہیں جنہوں نے تین زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کے دوران اپنی جانیں گنوائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو اب کسانوں سے معافی مانگنی چاہئے۔

سرجے والا نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر کابینہ کا اجلاس طلب کرے اور تین زرعی قوانین کو فوری منسوخ کرے، کیوں کہ ملک کی عوام کو وزیر اعظم کی باتوں اور وعدوں پر اب اعتبار نہیں رہا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں