Delhi HC: سلمان خورشید کی نئی کتاب کے خلاف عرضی خارج، ’کتاب پڑھنے سے روکا نہیں جاسکتا‘

Reading Time: 2 minutes

دہلی ہائی کورٹ (Delhi high court) نے جمعرات کو کانگریس لیڈر سلمان خورشید (Salman Khurshid) کی طرف سے لکھی گئی کتاب کی فروخت، خریداری اور ہر قسم کی گردش پر پابندی لگانے کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ اس سے قبل ان کی نئی شائع شدہ کتاب کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی گئی تھی۔

سلمان خورشید کی نئی کتاب ’’سن رائز اوور ایودھیا: نیشن ہڈ ان اوور ٹائمز‘‘ (Sunrise Over Ayodhya: Nationhood in Our Times) کے منظر عام پر آنے کے بعد کچھ حلقوں نے اعتراض ظاہر کیا تھا۔ جس کے بعد ان کی مذکورہ نئی کتاب کو پڑھنے کے لیے کئی لوگوں نے اپنی خواہش کا اظہار بھی کیا، وہیں بہت سے لوگوں نے اس کتاب پر پابندی کی بھی باتیں کی تھی۔

مصنف نے ہندوتوا کے سخت ورژن کا موازنہ دہشت گرد گروہوں جیسے داعش (IS) اور بوکو حرام (Boko Haram) سے کیا تھا۔ جس کے بعد ہنگامہ کھڑا ہوا۔ جسٹس یشونت ورما نے وکیل ونیت جندال کی طرف سے دائر عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ’’اسے خارج کر دیا گیا ہے‘‘۔

عدالت نے اپنے مشاہدے میں مزید کہا کہ ’’آپ لوگوں کو کتاب نہ خریدنے کے لیے کیوں نہیں کہتے ہیں؟ اگر لوگ اتنا حساس محسوس کر رہے ہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ کوئی بھی انہیں کتاب کو پڑھنے کے لیے نہیں کہہ رہا ہے‘‘۔

عدالت نے یہ بھی جاننا چاہا کہ کیا کتاب میں دیے گئے حوالوں کی وجہ سے ملک میں کوئی ناخوشگوار فرقہ وارانہ واقعہ پیش آیا؟ یہ اس وقت ہوا جب درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کتاب کی وجہ سے ملک میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ سکتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ فرقہ وارانہ امن کی خلاف ورزی محض ایک خدشہ ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ سب کو بتائیں کہ کتاب بری طرح سے لکھی گئی ہے، وہیں پڑھنے والوں سے کہا جائے وہ اس سے بہتر کتاب پڑھیں۔ درخواست گزار نے کہا تھا کہ کتاب ہندوستانی آئین کے دفعہ 19 اور 21 کے تحت ضمانت یافتہ بنیادی حق کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ کتاب کی فروخت، خریداری، اور گردش کی تمام شکلوں پر پابندی کی درخواست کے علاوہ درخواست میں عدالت سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اسے نہ پرنٹ اور نہ ہی ڈیجیٹل شکل میں شائع کرنے کی اجازت نہ دیں۔

واضح رہے کہ کتاب کی ریلیز کے بعد نینی تال میں سلمان خورشید کے گھر میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ ہجوم نے مبینہ طور پر اس کے کچھ حصوں کو آگ لگا دی۔ کماؤن پولیس نے اس واقعہ کے سلسلے میں 21 لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ ایودھیا فیصلے پر خورشید کی نئی کتاب گزشتہ ہفتے ریلیز ہوئی تھی۔ کتاب میں ایودھیا تنازعہ پر سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کی وضاحت پیش کی گئی ہے۔