Hyderabad:تلنگانہ سکریٹریٹ میں منہدم مساجد کی تعمیر نو، سنگ بنیاد تقریب میں شخصیات کی شرکت

Reading Time: 2 minutes

جمعرات 25 نومبر 2021 کو تلنگانہ کے نئے ریاستی سکریٹریٹ (Telangana Secretariat) کے احاطے میں دو مساجد کی دوبارہ تعمیر کے لیے سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ حیدرآباد دکن کے معروف دینی دانش گاہ جامعہ نظامیہ (Jamia Nizamia) کے شیخ الجامعہ مفتی خلیل احمد نے ریاستی وزیر داخلہ محمد محمود علی، ریاستی وقف بورڈ کے چیئرمین محمد سلیم، ریاستی اسمبلی میں اے آئی ایم آئی ایم لیڈر اکبر الدین اویسی، ٹی آر ایس کے قانون سازوں عامر شکیل اور فاروق حسین کی موجودگی میں دونوں مساجد کا سنگ بنیاد رکھا جہاں مزید چند شخصیات بھی موجود تھیں۔

سنگ بنیاد کی تقریب کو سادہ رکھا گیا اور نئے سیکرٹریٹ کمپلیکس کی جاری تعمیر کے پیش نظر عام لوگوں کو شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔ دی نیوز منٹ کی خبر کے مطابق ریاستی حکومت نے ان دونوں مساجد کے لیے 1500 گز مختص کیا ہے، جو 2.9 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کی جائیں گی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت اپنے وعدے پورے کرے گی اور دو مساجد ملک کی خوبصورت ترین مساجد میں شامل ہوں گی۔

سابق میں شہر کے وسط میں حسین ساگر کے قریب واقع پرانی سکریٹریٹ کی عمارتوں کو منہدم کرنے کے دوران دو مساجد اور ایک مندر کو مسمار کر دیا گیا تھا۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ عبادت گاہوں پر ملبہ گرنے سے ان کو نقصان پہنچا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے مزید کشادہ جگہوں پر اور سرکاری خرچ پر عبادت گاہ کو دوبارہ تعمیر کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اس سے قبل 5 ستمبر کو وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا تھا کہ حکومت نئے سیکرٹریٹ کمپلیکس میں ایک چرچ کے ساتھ مساجد اور ایک مندر کی تعمیر نو کرے گی۔

انہوں نے یہ اعلان مسلم رہنماؤں کے وفود سے ملاقات کے بعد کیا۔ کے سی آر نے وفود کو یقین دلایا تھا کہ وہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے حقیقی جذبے کے ساتھ ایک ہی دن تینوں عبادت گاہوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے جس کے لیے تلنگانہ جانا جاتا ہے اور ان کی جلد تکمیل کو یقینی بنائیں گے۔

مختلف مسلم تنظیموں کے قائدین مساجد کی تعمیر میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں اور کئی مواقع پر ریاستی حکومت سے جلد  کام شروع کرنے کی اپیل کی تھی۔ وزیر اعلیٰ ممکنہ طور پر بعد کی تاریخ میں مندر اور چرچ کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔