دیسی Dolo کیسے بنی قومی ٹیابلیٹ؟ سوشل میڈیا پر کیوں ہورہی ہے وائرل؟

Reading Time: 2 minutes

عام طور پر لوگ بخار آنے پر paracetamol کی دوائی کھاتے ہیں اور انکی بخار کم ہوجاتی ہے۔ مختلف فارما کمپنیاں پیرا سیٹامول کو مختلف برانڈنگ کے ذرئعے مارکیٹ میں فروخت کرتی ہیں جیسے کروسین یا ڈولو یا کال پال۔ یوں تو یہ سبھی برانڈس پیرا سیٹامول کا ہی کام کرتے ہیں لیکن انڈیا میں کووڈ۔19 کی وبا کے پھوٹنے سے لیکر آج تک ڈولو 650 ٹیابلیٹ کی ریکارڈ فروخت ہوئی ہیں۔ ڈولو دوائی بنانے والی مائیکرو لیابس کمپنی کے مطابق مارچ 2020 سے آج تک انہوں نے 350 کروڑ ٹیاب لیٹس فروخت کئے ہیں اور 567 کروڑ روپئے کا کاروبار کیا ہے۔

کسی شخص میں کورونا وائرس کی پہلی علامت بخار ہوتی ہے۔ ابتدا میں اس بیماری کے علاج کے لئے ڈاکٹر ڈولو 650 ٹیابلیٹ تجویز کرتے ہیں۔ کیونکہ ڈاکٹروں کے مطابق، بخار کو کم کرنے کے لئے اس سے موزوں دوسری ٹیابلیٹ نہیں ہے۔ یہ ٹیابلیٹ، کروسین، کالپال اور پیسی مال سے مختلف نہیں ہے لیکن ڈولو 650 بچہ سے لیکر بوڑھے تک اور دل کے مریض سے لیکر شوگر کے مریض تک سبھی کھاسکتے ہیں کیوں کہ اس سے کسی بھی قسم کے مضر اثرات کا خوف نہیں ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق، ڈولو650 زیراکس اور بسلری جیسے برانڈس کی طرح بن گیا ہے۔ انٹرنیٹ پر ڈولو ٹیابلیٹ کو لیکر لوگ کئی طرح کے میمس بنارہے ہیں۔ کسی نے اس ٹیابلیٹ کو نیشنل ٹیابلیٹ قراردیا تو کوئی اسے لوگوں کا پسندیدہ snack کہہ رہا ہے۔

ملک میں دیگر پیرا سیٹامول کی بہ نسبت Dolo کی غیر معمولی شہرت کی وجہ کا پتہ نہیں چل پایا ہے۔ ماہرین کے مطابق، برانڈ کے سیدھے سادے نام کی وجہ سے اس ٹیابلیٹ کو یاد رکھنے اور بولنے میں لوگوں کو آسانی ہوتی ہے۔ ڈولو ٹیابلیٹ بخار کو کم کرنے کے لئے انڈیا میں دوسری سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی ٹیابلیٹ ہے۔ ڈاکٹروں کی جانب سے ڈولو کی تجویز کی ایک وجہ یہ بھی ہیکہ اس میں پیرا سیٹامول650 ملی گرام ہوتا ہے جبکہ دیگر برانڈوں میں 500 ملی گرام ہوتاہے۔ کہا جاتا ہیکہ یہی وجہ ہیکہ ڈولو ٹیابلیٹ سے بخار تیزی سے کم ہوتی ہے۔

ڈولو بنانے والی مائیکرو لیابس کمپنی کے چیئرمن و منیجنگ ڈائریکٹر دلیپ سرانا نے کہا کہ ڈولو650 ٹیابلیٹ پہلے سے ڈاکٹروں کی پسندیدہ دوائی ہے لیکن کمپنی کو توقع نہیں تھی کہ انکی ٹیابلیٹ کو اس قدر غیرمعمولی شہرت ملے گی۔ سرانا نے کہا کہ کمپنی نے کبھی بھی ڈولو ٹیابلیٹ کی راست تشہیر نہیں کی ہے۔

کمپنی کے چیئرمن نے اس ٹیابلیٹ کی شہرت کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلاو کے دوران ڈاکٹر بخار کے مریضوں کو نہیں دیکھتے تھے، اور گھروں میں کورنٹین لوگ واٹس ایپ اور سوشل میڈیا مسیج کے ذریعے اس بیماری کے علاج کے ٹوٹکے ڈھونڈتے تھے اور شاید یہی وجہ ہیکہ اس ٹیابلیٹ کو اتنی زیادہ شہرت ملی ہے۔ اس کے علاوہ، کووڈ ویاکسی نیشن مہم کی تشہیر میں کمپنی نے حصہ لیا تھا جس میں انگریزی اور مقامی زبانوں میں پوسٹروں کے ذریعے بخار کو کم کرنھے سے متعلق جانکاری دی گئی تھی۔ اسی طرح، کمپنی کے نمائندوں نے ملک کے ہر اس کونے میں ڈولو ٹیابلیٹ پہنچائی ہے جہاں اسکی ضرورت محسوس کی جارہی تھی۔