ہندو مذہبی لیڈر کے گوشت کھانے پر اعتراض کی شدید مذمت، گرفتاری کا کیا گیا مطالبہ

Reading Time: 2 minutes

ہندو مذہبی لیڈر چیننا جی یار سوامی کے لوگوں کے گوشت کھانے پر قابل اعتراض تبصروں کی تمام گوشوں سے شدید مذمت کی جارہی ہے۔ یوں تو موصوف تلگو مذہبی ٹی وی چینل پر ہندومت کے بارے میں پروچن دینے کے لئے مشہور ہے لیکن انہوں نے گذشتہ ہفتہ اپنے پروچن میں تمام غیر ہندووں کے گوشت کھانے کو لیکر قابل اعتراض ریمارکس کئے ہیں۔ تلنگانہ کی کئی دلت اور پسماندہ طبقوں کی تنظیموں نے چیننا جی یار کا پتلہ نذر آتش کیا اور انکی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

کولہ وویکشا پوراٹا سمیتی، تلنگانہ ودیا ونتھولا ویدیکا، انٹی پارٹی، مادیگا ریزرویشن پوراٹا سمیتی، یروکولہ سنگم اور ایس سی۔ ایس ٹی مسائیل کی آواز اٹھانے والی دیگر تنظیموں نے نلگنڈہ کی ٹو ٹاون پولیس سے چیننا جی یار کی طرف سے سماج کے بعض طبقوں کے گوشت کھانے سے متعلق کئے گئے تبصروں کی شکایت کی اور انکی گرفتاری کی مانگ کی۔

عرضی گذاروں نے کہا کہ چیننا جی یار نے گذشتہ ہفتہ تلگو ٹی وی چینل پر دئے گئے اپنے پروچن میں گوشت کھانے والوں کا مذاق اڑایا ہے۔ دلت لیڈروں نے ہندو لیڈر کے خلاف ایس سی۔ ایس ٹی (مظالم کی روک تھام) ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ ان لیڈروں کا کہنا ہیکہ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے۔ چندرشیکھر راو بھی گوشت کھاتے ہیں، اس لئے انہیں ہندو لیڈر کے تبصرے پر شدید ردعمل دینا چاہئے۔

ہندو لیڈر چیننا جی یار کو ٹی وی چینل پر دئے گئے پروچن کی ریکارڈنگ میں یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے ” اگر آپ خنزیر کا گوشت کھاتے ہیں، تو آپ صرف خنزیر کی طرح سوچیں گے۔ اگر آپ مٹن کھاتے ہیں، تو آپ صرف بکری کی طرح ریوڑ کے پیچھے چلیں گے کیونکہ آپ کا اپنا دماغ کام کرنا بند کر دیتا ہے۔ اگر آپ انڈے کھاتے ہیں، تو آپ صرف مرغی کی طرح برتاؤ کریں گے جیسے کہ وہ گندگی میں چونچ مارتی ہے اور جگہ جگہ سے دانہ چگتی ہے۔”