کویتا کا تلنگانہ کونسل کے لیےبلا مقابلہ انتخاب یقینی

Reading Time: 2 minutes

نظام آباد کی ایم ایل سی اور تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ( K Chandrasekhar Rao ) کی دخترکلو کنٹلا کویتا کا دو سال میں ایک مرتبہ میں منعقد کئے جانے والے تلنگانہ قانون ساز کونسل انتخابات کیلئے نظام آباد مقامی اتھارٹیز حلقے سے بہ اتفاق رائے انتخاب یقینی ہے۔ انتخابی حکام نے نامزدگیوں کی تنقیح کے دوران آزاد امیدوار سرینیواس کی نامزدگی کو مسترد کردیا۔ اس کے بعد، مقامی اتھارٹیز حلقے کے تحت نظام آباد ایم ایل سی کویتا انتخابی میدان میں تنہا امیدوار رہ گئی ہیں۔

چیف ایلٹورل آفیسر ششانک گوئیل نے بتایا کہ تنقیحی عمل کے دوران 27 امیدواروں کی نامزدگیوں کو مسترد کر دیا گیا۔ جن میں سے بیشتر آزاد امیدوار تھے۔ حکام کے مطابق، ان کے پرچے نامزدگیوں میں یا تو تجویز کنندوں کے دستخط نہیں تھے یا پھر وہ دستخط جعلی تھے۔ یہ بات قابل ذکر ہیکہ26نومبر کو نامزدگیاں واپس لینے کی آخری تاریخ ہے۔ جس کے بعد حکام کویتا کے بغیر کسی مقابلے کے انتخاب کا اعلان کریں گے۔

اسی طرح، رنگا ریڈی ضلع میں برسر اقتدار ٹی آر ایس (TRS) کی جانب سے پٹنم مہیندر ریڈی اور شمبیر پور راجو کا بھی بغیر کسی مقابلے کے انتخاب طئے ہے۔ ٹی آر ایس کے تینوں امیدواروں کے انتخاب کا 26نومبر کو اعلان کیا جائیگا۔ متعلقہ ریٹرننگ افسران کی جانب سے انہیں الیکشن سرٹی فکیٹ دئے جائیں گے۔ کویتا ریاستی قانون ساز اسمبلی کے ایوان بالا کی دوسری معیاد کیلئے منتخب ہوں گی۔ گذشتہ سال اکتوبر میں قانون ساز اسمبلی کیلئے کویتا کو بھاری اکثریت کے ساتھ منتخب کیا گیا تھا۔

سن 2019کے لوک سبھا انتخابات میں نظام آباد حلقے سے چونکادینے والی شکست کے بعد کویتا نے قانون ساز اسمبلی کا الیکشن لڑا تھا۔ اس سے قبل 2014 میں وہ نظام آباد کی رکن پارلیمان رہ چکی تھیں۔ ان انتخابات میں جملہ 71امیدوار انتخابی میدان میں ہیں جن میں سے 24 امیدواروں نے میدک اور کھمم حلقوں سے اپنے پرچہ نامزدگیاں داخل کی ہیں۔ کانگریس پارٹی نے میدک اور کھمم حلقوں سے اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں۔