کرناٹک کے کوڈیگے میں دو سال بعد لوٹ آئی KFD بیماری

Reading Time: 2 minutes

ایک جانب کرناٹک میں کوویڈ-19 کی تیسری لہر سے عوام پریشان ہے ایسے میں ایک شیموگہ میں ایک پرانی وبا پھر سے لوٹ آئی ہے۔ تھرتھاہلی کے کوڈیگے گاؤں میں ایک 57 سالہ خاتون میں کیسانور فاریسٹ ڈیزیز (KFD) کی علامتیں پائے جانے کے بعد اسپتال میں داخل کرادیا گیا۔ شیموگہ کے ہیلتھ آفیسر راجیش سوراگیہالی کے مطابق یہ خاتون کچھ دنوں سے بخار میں مبتلا تھی جس کے بعد اس کا بلڈ ٹسٹ کیا گیا تو اس خاتون کو کے ایف ڈی متاثرہ پایا گیا۔

چونکہ کوڈیگے گاؤں گھنے جنگل میں واقع ہیں جہاں دو سال پہلے بھی یہ بیماری پھیلی تھی، اس لئے حکام نے اس خاتون کا KFD ٹسٹ کروایا تھا۔ متاثرہ خاتون کو پہلے تھرتھاہلی کی تعلقہ اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا لیکن کل شام اسے منی پال کی اسپتال منتقل کردیا گیا۔

شیموگہ کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر راجیش نے بتایا متاثرہ خاتون میں اس بیماری کی ہلکی سی علامتیں دیکھی گئی ہیں اس لئے پریشانی کی کوئی بات نہی۔ انتظامیہ نے کے ایف ڈی بیماری کے پھیلاو کا پتہ لگان کے لئے علاقہ کے 50 افراد کے خون کے نمونوں کی جانچ کی جن میں سے سے ایک کیس کی تصدیق ہوئی۔ جبکہ متاثرہ خاتون نے اس بیماری سے بچنے کے لئے ویکسین لی تھی۔

دسمبر 2019 میں ساگر تعلقہ کے ارلاگوڈو علاقہ میں کے ایف ڈی بیماری پھیل جانے سے 22۔ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ شیموگہ میں ان دو برسوں کے دوران مجموعی طور پر 26 افراد فوت ہوگئے۔ تاہم کوویڈ-19 کی وبا کے پھیلاو کے پیش نظر آہستہ آہستہ خطے میں کے ایف ڈی بیماری ختم ہوگئی تھی۔

اس بیچ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی کی ٹیم آرلاگوڈو گاؤں میں کے ایف ڈی کے پھیلاو کا سبب بننے والے کھٹملوں کوجمع کررہی ہے۔ سوربا تعلقہ کے کیاسنور گاؤں میں 1957 میں پہلی بار کے ایف ڈی بیماری کا پتہ چلا تھا۔ تب سے آج تک اس بیماری کے کئی ویرینٹ سامنے آئے ہیں۔