جموں وکشمیر میں 64 گھنٹوں کے لاک ڈاون کا تیسرا دن، بازار بند، سڑکیں ویران

Reading Time: 2 minutes

وادی کشمیر میں اتوار کے روز بھی ’ویک اینڈ‘ لاک ڈاون نافذ رہنے سے ہر سو بازاروں میں سناٹا چھایا رہا اور کاروباری سرگرمیاں ٹھپ پڑ گئی تھیں۔ یاد رہے کہ مرکزی زیر انتظام علاقہ میں کووڈ۔19 وبا کی تیسری لہر کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لئے انتظامیہ نے 64 گھنٹوں پر محیط لاک ڈاون نافذ کیا ہے۔

یہ لاک ڈاون جمعے کے روز 2 بجے سے شروع ہو کر پیر کی صبح 6 بجے ختم ہوگا اور اس کا نفاذ ہر ہفتے اگلے احکامات جاری ہونے تک جاری رہے گا۔ میڈیا ذرائع کے مطابق، جموں وکشمیر کے مختلف علاقوں میں آج بھی تمام بازار بند رکھے گئے اور سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کی نقل وحمل بھی معطل دیکھی گئی۔

یونین ٹیری ٹری میں لاک ڈاون کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لئے کئی مقامات پر پولیس کی طرف سے ناکہ بندی کی گئی ہے اور اہم عوامی مقامات پر سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری کو تعینات دیکھا گیا۔اتوار ہونے کی وجہ سے لوگوں نے گھروں میں ہی بیٹھے رہنے کو ترجیح دی اور اگر کوئی مجبوری کی حالت میں گھر سے نکلتا تو اس نے ماسک وغیرہ لگائی ہوتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وادی کے دیگر اضلاع کے ضلع صدر مقامات اور قصبہ جات میں بھی اتوار کو مکمل لاک ڈاون نافذ رہا اور بازاروں میں دکان بند اور ٹرانسپورٹ کی نقل وحمل معطل رہی۔قابل ذکر ہے کہ ملک بھر کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر میں بھی کورونا کے کیسز میں روز بہ روز بے تحاشہ اضافہ درج ہو رہا ہے جس سے لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔جمعرات کے روز، جموں وکشمیر میں چھ ہزار کے قریب کووڈ کیسز سامنے آئے تھے۔

یونین ٹریٹری انتظامیہ اس لہر کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لئے مختلف قسم کے اقدام کر رہی ہے۔اس بیچ گرمائی دارالخلافہ سری نگر میں لاک ڈاون کی خلاف ورزی کرنے پر متعدد افراد کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ لاک ڈاون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لانے کا سلسلہ جاری ہے۔ حکام نے بتایا کہ سری نگر کے سیول لائنز کے علاقوں میں گزشتہ دنوں کئی دکانوں کو سیل بند بھی کیا گیا ہے۔