یونیورسٹی آف حیدرآبادکو6کروڑ روپے کی مالی امداد، ٹماٹر پر خصوصی تحقیق ہوگی

Reading Time: 2 minutes

یونیورسٹی آف حیدرآباد (University of Hyderabad) نے چار سال کی مدت میں پلانٹ میٹابولومکز (چھوٹے مالیکیولز کا مطالعہ) اور پروٹومکس (پروٹینز کا مطالعہ) کے لیے تحقیق اور خدمات کی سہولیات شروع کرنے کے لیے محکمہ بائیو ٹیکنالوجی (DBT) سے چھ کروڑ روپے کی فنڈنگ ​​حاصل کی ہے۔ مذکورہ امداد کے تحت یونیورسٹی کے ریپازیٹری ٹوماٹو جینومکس ریسورسز (RTGR) میں تحقیق کی جائے گی۔

ریپازیٹری ٹوماٹو جینومکس ریسورسز کو سنہ 2010 میں قائم کیا گیا تھا۔ آر ٹی جی آر ٹماٹر کی غذائیت اور شیلف لائف کو بہتر بنانے کے لیے ٹماٹر کے جینومکس، پروٹومکس اور میٹابولومکس جدید سائنسی تحقیق کرتا ہے۔ اس کی سائنسی شراکت اور خدمات کو دیکھتے ہوئے حکومت ہند کے محکمہ بائیو ٹیکنالوجی نے ٹماٹر میں جینوم انجینئرنگ کے لیے سینٹر آف ایکسیلنس کے طور پر تسلیم کیا ہے۔

محکمہ بائیو ٹیکنالوجی، وزارت برائے سائنس و ٹیکنالوجی، حکومت ہند نے یونیورسٹی آف حیدرآباد کے ریپازیٹری ٹوماٹو جینومکس ریسورسز کو ’’پلانٹ میٹابولومکس اور پروٹومکس کے لیے تحقیق اور خدمات کی سہولیات‘‘ کے عنوان سے ایک پروجیکٹ کے طور پر چار سال (25-2021) کی مدت کے لیے 6.18 کروڑ روپے کی رقم منظور کی ہے۔

مذکورہ امداد کے تحت ٹماٹر کی پیداوار اور اس کی انواع و اقسام پر خصوصی تحقیق ہوگی۔
مذکورہ امداد کے تحت ٹماٹر کی پیداوار اور اس کی انواع و اقسام پر خصوصی تحقیق ہوگی۔

اس پروجیکٹ کے حصے کے طور پر ریپازیٹری ٹوماٹو جینومکس ریسورسز، یونیورسٹی آف حیدرآباد اور دیگر تعلیمی اداروں، صنعت، بیج کمپنیوں وغیرہ کو چارج کی بنیاد پر خدمات فراہم کرے گا۔ یہ صارفین کو سالانہ ہینڈ آن ٹریننگ ورکشاپس کے ذریعے میٹابولومک اور پروٹومک ڈیٹا تجزیہ کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی تربیت بھی دے گا۔ یہ صارفین کو ہائی تھرو پٹ پلانٹ میٹابولوم اور پروٹوم تجزیہ فراہم کرنے کے منصوبے کو مربوط کرے گا۔