وزیراعظم کا زرعی قوانین کی منسوخی کا اعلان : کسان تحریک، آغاز سے اب تک کیا ہوا؟

Reading Time: 5 minutes

وزیراعظم نریندرمودی نے پرکاش پورب کے موقع پر قوم سے خطاب کے دوران 17 ستمبر 2022 کو وضع کئے گئے تین متنازعہ زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعظم نے کسانوں سے اپنا احتجاج ختم کرنے اور اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جانے کی اپیل کی ہے۔

پارلیمنٹ میں تین متنازعہ زرعی قوانین کی منظوری کے بعد سے ملک بھر میں بالخصوص پنجاب اور ہریانہ کے کسان سڑکوں پر نکل آئے اور مرکز کے خلاف احتجاج کرنے لگے۔ گذشتہ سال 26 نومبرسے دہلی کے باہر سنگھو، ٹیکری ور غازی پور سرحدوں اور شمالی ہند کے مختلف حصوں میں کسانوں کے مظاہرے اور دھرنے جارہی ہیں۔

مرکز نے گذشتہ سال پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران مندرجہ ذیل تین قوانین منظور کئے تھے :

Farmer’s Produce Trade and Commerce ( Promotion and Facilitation ) Act, 2020

Essential Commodities ( Amendment ) Act, 2020

Farmers ( Empowerment and Protection ) Agreement on Price Assurance and Farm Services Act, 2020

کسانوں کو خدشہ تھا کہ ان متنازعہ قوانین کے نفاذ کے بعد مخصوص فصلوں پر حکومت کی جانب سے دئے جانے والا منی مم سپورٹ پرائس ( MSP ) ختم ہوجائیگا اور انہیں بڑے کارپوریٹ اداروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائیگا۔

آئے تین زرعی قوانین کے بعد سے کسانوں کے احتجاج کی ٹائم لائین پر نظر ڈالتے ہیں ایک نظر :

پارلیمنٹ میں تین زرعی قوانین کی منظور کے بعد 25 نومبر سے کسانوں کے احتجاج کا آغاز ہوا۔ پنجاب اور ہریانہ سے ہزاروں کسانوں نے دہلی چلو مہم کے تحت قومی راجدھانی کی طرف مارچ کیا اورتین زرعی قوانین کی مکمل منسوخی کا مطالبہ کیا۔

5 جون 2020 : مرکز نے تین زرعی قوانین کا اعلامیہ جاری کیا۔ ان تین زرعی قوانین کا مقصد زرعی شعبہ کو حکومت کے ہاتھوں سے خانگی اداروں کو منتقل کرنا۔

14 ستمبر2020 : پارلیمنٹ میں آرڈیننس لایا گیا۔

17 ستمبر 2020 : لوک سبھا میں آرڈیننس منظور کرلیا گیا۔

20 ستمبر2020 : صوتی ووٹ سے راجیہ سبھا میں آرڈیننس منظور کرلیا گیا۔

24 ستمبر2020 : پنجاب میں کسانوں نے تین روزہ ریل روکو احتجاج کا اعلان کیا۔

25 ستمبر2020 : کل ہند کسان سنگھرش کوآرڈنیشن کمیٹی کے احتجاجی کال پر ملک بھر میں کسان زرعی قوانین کی مخالفت میں سڑکوں پر نکل آئے۔

27 ستمبر 2020 : صدر جمہوریہ نے زرعی بلس کو منظوری دیدی جس کے بعد گزیٹ آف انڈیا میں اس کا اعلان کیا گیا اور زرعی بلس کو قانونی حیثیت حاصل ہوگئی۔

25 نومبر 2020 : تین نومبرملک بھر میں راستہ روکو احتجاج سمیت نئے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرئے کئے گئے۔ پنجاب اور ہریانہ کی کسان یونینوں نے ‘ دہلی چلو’ تحریک کی کال دی۔ دہلی پولیس نے کووڈ پرٹوکال کا حوالہ دیتے ہوئے کسانوں کو دہلی مارچ کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔

26 نومبر 2020 : دہلی کی طرف مارچ کرنے پراحتجاجی کسانوں کو پولیس کی طرف سے پر پانی کی توپوں اور آنسو گیس کا سامنا کرنا پڑا۔ اسکے بعد، دہلی پولیس نے احتجاجی کسانوں کو شمال مغربی دہلی میں نیرنکری گراؤنڈ پر پُرامن احتجاج کی اجازت دیدی۔

28 نومبر 2020 : مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ نے دہلی کی سرحدوں کو خالی کرکے بوراری میں دھرنے کے متعین کئے گئے مقام پر منتقلی کی شرط پر کسان لیڈروں کے ساتھ بات چیت کی پیشکش کی۔ تاہم، کسانوں نے مرکز کی پیشکش کو ٹھکرادیا اور جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کا مطالبہ کیا۔

3 دسمبر 2020 : کسان تنظیموں کے لیڈروں کے ساتھ حکومت نے پہلے دور کی بات چیت کی لیکن مذاکرات بے نتیجے رہے۔

5 دسمبر 2020 : کسان تنظیموں کے لیڈروں کے ساتھ حکومت نے دوسرے دور کی بات چیت کی لیکن مذاکرات بے نتیجے رہے۔

8 دسمبر 2020 : احتجاجی کسانوں نے بھارت بند کی کال دی۔ دیگر ریاستوں کے کسانوں نے بھی بھارت بند کی تائید کی۔

11 دسمبر 2020 : بھارتیہ کسان یونین نے تین زرعی قوانین کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔

11 جنوری2021 : سپریم کورٹ نے کسانوں کے احتجاج سے نمٹنے کے معاملے پر مرکز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ وہ زرعی قوانین پر مرکز اور کسانوں کے بیچ مذاکرات پر جاری تعطل کو حل کرنے کیلئے سابق چیف جسٹس آف انڈیا کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دیگی۔

12 جنوری 2021 : سپریم کورٹ نے تین زرعی قوانین کے نفاذ پر روک لگادی اور ان قوانین پر سفارشات دینے کیلئے چار رکنی کمیٹی تشکیل دی۔

26 جنوری 2021 : یوم جمہوریہ کے موقع پر تین زرعی قوانین کی منسوخی کا مطالبہ کرنے کیلئے کسان تنظیموں کی جانب سے نکالی گئی ٹریکٹر پردیڈ کے دوران ہزاروں احتجاجیوں اور دہلی پولیس کے بیچ پُر تشدد جھڑپ ہوئی۔ چند مظاہرین نے تاریخی لال قلعہ پرسکھوں کا نشان صاحب پرچم لہرایا۔ اس ہنگامے کے دوران ایک احتجاجی کی موت ہوگئی۔

9 فروری 2021 : پنجابی اداکار سے جہدکار بنے دیپ سندھوں کو یوم جمہوریہ تشدد معاملے میں دہلی پولیس نے گرفتار کیا۔

5 مارچ 2021 : پنجاب کی اسمبلی نے کسانوں اور پنجاب کے مفاد میں تین زرعی قوانین کی غیرمشروط منسوخی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک قرارداد منظور کی۔

6 مارچ 2021 : دہلی کی سرحدوں پر کسانوں کے احتجاج کے 100 دن مکمل۔

7 اگست 2021 : چودہ اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں نے پارلیمنٹ ہاوز میں ملاقات کی اور دہلی کے جنتر منتر پر کسانوں کی پارلیمنٹ جانے کا فیصلہ کیا۔ راہول گاندھی اور دیگر لیڈروں نے تین متنازعہ زرعی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

28 اگست 2021 : ہریانہ کی پولیس نے کرنال شہر میں قومی شاہراہ پر بستارہ ٹول پلازہ کے قریب تین زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کررہے کسانوں پر لاٹھی چارج کیا جس کے نتیجے میں کئی کسان زخمی ہوگئے۔

3 اکتوبر 2021 : مملکتی وزیر اجئے مشرا کی کار کے علاوہ دیگر دو گاڑیوں کو اترپردیش کے لکھیم پور کھیری میں احتجاج کررہے کسانوں پر چڑھادیا گیا جس کے نتیجے میں چار کسان ہلاک ہوگئے۔ اسکے بعد تشدد کی کاروائی میں بی جے پی کے دو ورکر، کار ڈرائیور اور ایک جرنلسٹ کی موت ہوگئی۔ یو پی کی پولیس نے مملکتی وزیر کے بیٹے آشیش مشرا سمیت دس افراد کو گرفتار کیا ہے۔

29 اکتوبر 2021 : دہلی پولیس نے تین زرعی قوانین کے خلاف ٖغازی پور بارڈر پر کسانوں کے دھرنے کے مقام سے بیریکیڈ ہٹانے شروع کردئے۔ ٹیکری بارڈر پر بھی بیریکیڈ ہٹادئے گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں