کووڈ۔19 کی دوائی مولنوپیراویر کو کیوں ‘ غیر معمولی ‘ قراردیا جارہا ہے؟

Reading Time: 2 minutes

کیا مولنوپیراویر کووڈ ویاکسین کا ٹیکہ نہیں ہے؟

کووڈ۔19 سے لڑنے کیلئے دنیا بھر میں اب تک ویاکسین کے ٹیکے لگوائے جارہے ہیں۔ زائڈس کیڈلا کا بغیر انجکشن والا ٹیکہ بھی تیارکرلیا گیا ہے۔ لیکن مولنوپیراویر کوئی ویاکسین نہیں بلکہ دنیا کی سب سے پہلی ٹیابلیٹ ہے جو عام دوائیوں کی طرح پانی سے لی جاسکتی ہے۔ برطانیہ کی مہشور فارما کمپنی Merck کی تیار کردہ مولنوپیراویر دوائی کے بارے میں کہا جارہا ہیکہ اس سے ہائی رسک گروپ کے مریضوں اور کمزور مدافعتی نظام والے مریضوں کو فائدہ ہوگا اور اسکے استعمال سے مریضوں کو دواخانے میں شریک ہونے کی ضرورت اوراموات میں قابل لحاظ کمی آئیگی۔

کیا ہے؟ Merck pill

مرک کمپنی کا کہنا ہیکہ کووڈ۔19کے خلاف لڑائی میں مولنوپیراویر دنیا کی سب پہلی ٹیابلیٹ ہے جسے  پانی کے ساتھ لیا سکتا ہے۔ کمپنی کے مطابق، تیسرے مرحلے کے انسانی تجربات میں مولنوپیراویر ٹیابلیٹ کی افادیت بہتر پائی گئی کیوں کہ اسکے استعمال سے کووڈ مریضوں کو بہت کم اسپتال جانا پڑا اور کووڈ متاثرین کی اموات کی شرح بھی گھٹی ہے۔

کیسے کام کرتا ہے مولنوپیراویر؟

اس اینٹی وائرل پل کا کیمیکل نام مولنوپیراویر ہے۔ مولنوپیراویر، کووڈ کی بیماری کا سبب بننے والے SARS-Cov-2 کودوگنا ہونے سے روکتا ہے۔ آسان زبان میں کہا جائے تو یہ دوائی وائرس کے جینٹک مواد کو غلطیاں کرنے کا سبب بنتا ہے جس کا مطلب وائرس کی بننے والی کاپیاں ناکارہ ہوجائیں گی۔

کتنے دن تک اور کب کب مولنوپیراویر گولی کھانی ہوگی؟

برطانیہ کے ڈرگ ریگولیٹر( MHRA ) نے کہا ہیکہ اس ٹیابلیٹ کو ہنگامی استعمال کیلئے منظور کیا گیا ہے۔ موٹاپہ، ضعیف، شوگر یا دل کے مریضوں میں کووڈ کی ہلکی یا معتدل علامات پائے جانے پرمریض کو یہ ٹیابلیٹ کھلائی جاسکتی ہے۔ حالیہ دنوں میں کووڈ کی علامتیں پائے جانے والے مریضوں کو پانچ روز تک دن میں دو مرتبہ مولنوپیراویر کی چار گولیاں دینی ہوگی۔ برطانیہ کے ہیلتھ سیکرٹری ساجد واجد نے کمزور مدافعتی نظام والے مریضوں کیلئے مولنوپیراویر ٹیابلیٹ کو ‘ گیم چینجر’ قراردیا ہے۔