میانمار میں نفرت انگیزی پھیلانے کیلئے فیس بک کا بے دریغ استعمال

Reading Time: 2 minutes

میانمار میں نسلی اور مذہبی تشدد کو کئی سال تک بڑھاوا دینے کے معاملے میں دنیا کی نظروں میں آنے کے باوجود فیس بک (Facebook) کمپنی کو جنوب مشرقی ملک میں اپنے پلیٹ فارم پر نفرت انگیز مواد، فرضی خبروں کا پتہ لگانے اور اسے ماڈریٹ کرنے میں ابھی بھی دشواریوں کا سامنا ہے۔

تین سال قبل سوشل میڈیا کمپنی نے ایک رپورٹ بنائی تھی جس میں پتہ چلا کہ میانمار میں انتشار پھیلانے اور آف لائین تشدد کو اکسانے کے لیے فیس بک کا استعمال کیا گیا ہے۔ کمپنی نے ہیٹ اسپیچ کو روکنے کیلئے ٹکنالوجی کو بہتر بنانے پر عزم ظاہر کیا تھا، لیکن دشمن عناصر کی جانب سے سوشل میڈیا کا غلط استعمال جاری ہے۔ رواں سال یکم فروری کو میانمار میں فوجی حکومت قائم ہونے کے بعد سے ملک بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں اضافہ ہوا ہے۔

میانمار میں آج اگر کوئی فیس بک کھولے تو اسے قتل اور عصمت دری کے بے شمار پوسٹ نظر آئیں گے۔ 24 اکتوبر کو فوجی حکومت کے حمایتی نے اپوزیشن گروپس کی مخالفت میں فیس بک پر ڈھائی منٹ کا ایک ویڈیو پوسٹ کیا تھا جسے 56 ہزار سے زائد افراد نے دیکھا ہے۔

اس ویڈیو میں برما کے ایک شخص کو کیمرے میں دیکھ کر یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہیں کہ ’’ہم موت کے دیوتا ہیں، کل دیکھتے ہیں کہ آپ لوگ مرد ہیں یا نامرد‘‘ ایک اور اکاونٹ سے کئے گئے پوسٹ میں فوج کے باغی کے گھر کا پتہ اور اس کی بیوی کی تصویر شئیر کی گئی ہے۔ ایک اور پوسٹ میں 29 اکتوبر کی تصویر میں سپاہیوں کی اور آنکھوں پر پٹی بندھے مردوں کی تصویریں شئیر کی گئی ہیں۔ اس تصویر کے نیچے برما کی زبان میں ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ ’’انہیں زندہ مت پکڑو‘‘۔ ذرائع کے مطابق فیس بک نئی ماڈریشن ٹکنالوجی پر کام کررہا ہے جو نفرت انگیز اور غلط جانکاری والے پوسٹوں کی از خود جانچ کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں