پاکستانی سینیٹ کے ہنگامی اجلاس میں چار بل منظور، اپوزیشن کا ناکام احتجاج 

Reading Time: 3 minutes

پاکستان میں پارلیمنٹ کے ایوان بالا نے جمعہ کو اپوزیشن کے احتجاج کے درمیان چار بل منظور کیا ہے۔ جس پر اپوزیشن نے شدید انداز میں احتجاج کیا۔ لیکن ان کا یہ احتجاج ناکام ہوا اور ان بلوں کو منظور کیا گیا۔ یہ اجلاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ نیب ترمیمی آرڈیننس 2021 وفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم نے پیش کیا جب کہ صحافیوں کا پروجیکشن بل وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے پیش کیا۔ دونوں بلوں کو پارلیمنٹ کے ایوان بالا نے فیصلہ کن اکثریت سے منظور کر لیا۔

یہ بات قابل غور ہے کہ حکومت نے حزب اختلاف کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنے کے باوجود بھی ان بلوں کو منظوری دے دی۔ اس کے علاوہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے آئی ووٹنگ کے متنازعہ بل سمیت 33 بلوں کی ریکارڈ تعداد کو سامنے لانے میں بھی حکومت کامیاب رہی۔

قومی احتساب ترمیمی بل 2021

The National Accountability Bureau (NAB) Amendment Bill

صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے تحفظ کا بل 2021

Protection of Journalists and Media Professionals Bill

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) (ترمیمی) بل

Higher Education Commission (HEC) (Amendment) Bill

اور ایچ ای سی کا دوسرا ترمیمی بل

HEC Second Amendment Bill

’’صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کو تحفظ‘‘

حزب اختلاف نے مطالبہ کیا کہ سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی (Sadiq Sanjrani) صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے تحفظ کے بل کو متعلقہ قائمہ کمیٹی میں جانچ کے لیے بھیجیں۔ جس کا مقصد صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کو تحفظ فراہم کرنا بتایا گیا ہے۔ اس یقین دہانی کے باوجود مذکورہ بل پر صحافتی حلقوں میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ صحافیوں کا کہنا ہے کہ اس سے حکومت صحافیوں پر پابندی عائد کرنا چاہتی ہے اور ان پر اپنا شکنجہ کسنا چاہتی ہے۔

ضمنی ایجنڈے کے ذریعے ان میں سے دو بلوں کی آخری لمحات میں لینڈنگ کو اپوزیشن نے خاص طور پر تنقید کا نشانہ بنایا، جس سے سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی نے مشاہدہ کیا کہ جب بھی اپوزیشن کو اپنی ناکامی کی وجہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اسے الزام تراشی کرنے کی عادت پڑ چکی ہے۔

اپوزیشن کا احتجاج:

احتجاج کرنے والے اپوزیشن قانون ساز چیئرمین کے پوڈیم کے قریب جمع ہوئے اور سپلیمنٹری ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر کرسی پر پھینک دیں۔ بل براہ راست ووٹنگ کے لیے اٹھانے پر سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی (Mian Raza Rabbani) کا کرسی سے جھگڑا ہوا۔ سنجرانی نے ربانی کو بتایا کہ پلیز مجھے یہ مت بتائیں۔ ایسا ماضی میں بھی اکثر ہوتا رہا ہے۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ آپ (سنجرانی) صرف اپوزیشن کے چیئرمین ہیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا۔

انہوں نے کہا کہ تمام فیصلے اپوزیشن کی خواہشات کے مطابق کیے جا رہے ہیں اور جن بلوں پر ایوان میں فوری غور کیا جائے وہ بھی قائمہ کمیٹیوں کو بھیجے جا رہے ہیں۔ چیئرمین نے کہا کہ وہ دونوں اطراف کے اراکین کا یکساں احترام کرتے ہیں اور وزیر مملکت کو مشورہ دیا کہ وہ کرسی کو نشانہ نہ بنائیں۔