روس افغانستان سے 380 سے زائد افراد کو نکالے گا، افغانستان کی مدد کا بھی اعلان

Reading Time: 2 minutes

عالمی خبر رساں ادرہ ژنہوا نے روسی وزارت دفاع (Russian Defense Ministry) کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ روس 380 سے زیادہ روسی اور غیر ملکی شہریوں کو افغانستان سے نکالے گا۔ روسی وزارت دفاع کے ذرائع نے بتایا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن (Vladimir Putin) کی جانب سے روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے روس، بیلاروس، کرغزستان، آرمینیا، یوکرین اور افغانستان کے 380 سے زائد شہریوں کو افغان سرزمین سے نکالنے کا انتظام کیا ہے۔

خامہ پریس (Khaama Press) کی خبر کے مطابق انسانی امداد کی پہلی روسی کھیپ کابل پہنچ گئی ہے۔ طالبان حکام نے اطلاع دی ہے کہ 36 ٹن انسانی امداد لے کر تین طیارے کابل پہنچے اور کھیپ ان کے حوالے کر دی گئی۔ مذکورہ امداد میں آٹا، خوردنی تیل اور کمبل شامل ہے۔ اطلاعات و ثقافت کے نائب وزیر اور طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد (Zabiullah Mujahid) کو سونپی گئی ہے۔ طالبان حکام نے روسی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور دوسرے ممالک سے افغان عوام کو امدادی امداد فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھنے کا مطالبہ کیا۔ خامہ پریس نے مزید کہا کہ روس افغانستان کو مجموعی طور پر 108 ٹن انسانی امداد بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے جس میں سے پہلی قسط پہنچی اور باقی دو جلد ہی افغانستان بھیج دی جائیں گی۔

اقوام متحدہ کے مائیگریشن ایجنسی نے افغانستان میں جاری انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بیک وقت انسانی، معاشی اور سیاسی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر کوئی اقدام نہ کیا گیا تو افغانستان 2022 کے وسط تک ’’انتہائی غربت‘‘ کی سطح پر پہنچ جائے گی۔ انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (IOM) ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’افغانستان تقریباً 40 ملین لوگوں کا ملک ہے، جن میں سے تقریباً سبھی 2022 کے وسط تک انتہائی غربت تک پہنچ سکتے ہیں۔ اگر بیک وقت انسانی، معاشی اور سیاسی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر کوئی اقدام نہ کیا گیا تو یہ ہو کر رہے گا‘‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں