ترکی۔یو اے ای تعلقات میں نئی پیش رفت، شیخ زاید النہیان ۔ رجب طیب اردگان کے درمیان ملاقات

Reading Time: 2 minutes

ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید النہیان (Sheikh Mohammed bin Zayed Al Nahyan) ترکی کے صدر طیب اردگان (Tayyip Erdogan) کے ساتھ آپسی بات چیت اور خیر سگالی ملاقات کے لیے بدھ 24؍ نومبر 2021 کو ترکی کا دورہ کریں گے۔ ترک ایوان صدر کے ذرائع نے کہا کہ علاقائی حریفوں کے درمیان خراب تعلقات کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بدھ کو ہونے والی ملاقات دونوں ممالک کے درمیان برسوں کی بعد اعلیٰ ترین سطح کی بات چیت ہوگی جنہوں نے لیبیا کے تنازعے میں مخالف فریقوں کی حمایت کی ہے اور دیگر علاقائی مسائل پر بحث کی ہے۔

علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر گفتگو:

ترک ایوان صدر نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ دوطرفہ تعلقات کا تمام جہتوں کے ساتھ جائزہ لیا جائے گا اور تعلقات کو بہتر بنانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ذرائع نے مزید کہا کہ مذاکرات میں علاقائی اور بین الاقوامی مسائل بھی زیر بحث آئیں گے۔

اماراتی سرکاری خبر رساں ایجنسی ڈبلیو اے ایم نے رپورٹ میں کہا ہے کہ بدھ کے دورز شیخ کا دورہ ترک صدر رجب طیب اردگان کی دعوت پر کیا جائے گا۔ ڈبلیو اے ایم نے کہا کہ محمد بن زاید کی ترک صدر کے ساتھ بات چیت میں مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو ان کے باہمی مفادات کے حصول کے لیے مستحکم کرنے کے امکانات، مشترکہ تشویش کے متعدد مسائل اور تازہ ترین علاقائی اور بین الاقوامی مسائل کا جائزہ لینے کے علاوہ” پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید النہیان تصویر ٹوئٹر: @MohamedBinZayed
ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید النہیان تصویر ٹوئٹر: @MohamedBinZayed

ترکی۔یو اے ای تعلقات میں نئی پیش رفت:

دونوں رہنماؤں نے 31 اگست کو ایک فون کال میں تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ ترک وزیر خارجہ میولود چاوش اولو(Mevlut Cavusoglu) نے ستمبر میں ٹیلی ویژن پر دیئے گئے ریمارکس میں کہا تھا کہ حالیہ دنوں میں ترک اماراتی تعلقات پر ایک مثبت ماحول معلق ہے۔

ترکی صدر رجب طیب اردگان تصویر ٹوئٹر : @trpresidency
ترکی صدر رجب طیب اردگان تصویر ٹوئٹر : @trpresidency

انقرہ نے حالیہ مہینوں میں متحدہ عرب امارات اور اس کے عرب اتحادیوں کے ساتھ کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اردگان نے بڑھتی ہوئی سفارتی تنہائی سے نکلنے کے لیے مصر سمیت علاقائی حریفوں تک رسائی حاصل کی ہے جس نے ترکی کی کمزور معیشت اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو مزید متاثر کیا ہے۔