یورپی ممالک میں کووڈ۔19 کیسوں میں تشویشناک اضافہ، آسٹریا میں ملک گیر لاک ڈاؤن

Reading Time: 2 minutes

یورپی ممالک میں عالمی وبا کورونا وائرس (COVID-19) کے کیسوں میں اضافہ کو ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ ان میں سرفہرست آسٹریا (Austria) ہے۔ جہاں کورونا کیسوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ہورہا ہے۔ اسی ضمن میں آسٹریا نے مکمل لاک ڈاؤن کو دوبارہ نافذ کرنے کے اپنے منصوبے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ ہمسایہ ملک جرمنی (Germany) نے متنبہ کیا ہے کہ وہ بھی اسی طرح عمل کرسکتا ہے۔

جمعہ کے روز آسٹریا میں عالمی وبا کورونا وائرس (COVID-19) کے 15,809 تازہ کیسوں کی اطلاع دی گئی ہے۔ جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے، جس نے حکومت کو نئی پابندیوں کا اعلان کرنے پر آمادہ کیا۔ واضح رہے کہ پچھلے سال وبائی مرض کے آغاز کے بعد سے یہ آسٹریا میں چوتھی بار ملک گیر لاک ڈاؤن ہوگا۔

آسٹریا کے چانسلر الیگزینڈر شلن برگ (Alexander Schallenberg ) نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ ’’ہم کافی لوگوں کو ویکسین فراہم کرنے کے لیے  کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ یہ تکلیف دہ بات ہے کہ اس طرح کے اقدامات ابھی بھی اٹھائے جانے باقی ہیں‘‘۔

آسٹریائی حکومت نے 22 نومبر 2021 سے 10 دن کا لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا اعلان کیا، جس کی وجہ سے یہاں کے شہریوں میں غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ وہیں یکم فروری سے لازمی ویکسینیشن کے منصوبے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

فیصلے کی مخالفت:

حکومت کے اس فیصلے پر انتہائی دائیں بازو کی فریڈم پارٹی (Freedom Party) نے کئی اعتراضات ظاہر کیے ہیں۔ فریڈم پارٹی کے رہنما ہربرٹ کِل (Herbert Kickl) نے فیس بک پر ایک تصویر پوسٹ کی اور لکھا کہ ’’آج تک آسٹریا ایک آمریت کے زیر اثر ہے‘‘۔

جرمنی میں بھی کورونا کا اثر:

دریں اثنا کووڈ۔19 کی چوتھی لہر نے جرمنی کو ایک قومی ہنگامی صورتحال میں ڈال دیا ہے اور وزیر صحت جینس اسپن (Jens Spahn) کے مطابق صرف ویکسین سے انفیکشن میں کمی نہیں آئے گی۔ اسپن کی وارننگ سے پتہ چلتا ہے کہ یورپ کی سب سے بڑی معیشت جرمنی میں بھی لاک ڈاؤن کے اقدامات ہو سکتے ہیں۔

ایک نیوز کانفرنس کے دوران اسپن سے پوچھا گیا کہ کیا جرمنی آسٹریائی طرز کے مکمل لاک ڈاؤن کو مسترد کر سکتا ہے؟ تب انھوں نے کہا کہ ہم اب ایک ایسی صورتحال میں مبتلا ہیں۔ جہاں ہم کسی بھی چیز کو مسترد نہیں کرسکتے۔ اسی لیے ہم ایک قومی ہنگامی صورتحال میں پھنسے ہوئے ہیں‘‘۔

یورپ ایک بار پھر وبائی مرض کا عالمی مرکز بننے کے دہانے پر ہے۔ اسی لیے کچھ ممالک غیر ویکسین شدہ افراد کو روک رہے ہیں۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق نیدرلینڈ کی حکومت نے صحت عامہ کے لیے ٹیسٹوں کی جانچ پر زور دیا ہے۔ وہیں کورونا کے خلاف ویکسینیشن پر بھی زور دیا ہے۔