مائیگریشن، ایمگریشن اور گولڈن ویزا : جانئے فرق اور مواقع

Reading Time: 3 minutes

مائگریشن کیا ہے اور لوگ کیوں نقلی مکانی کرتے ہیں؟

نقلی مکانی ( مائگریشن ) کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں جیسے معاشی، سماجی یا سیاسی مسائیل۔ اپنے ہی ملک میں ایک مقام سے دوسرے مقام کو منتقلی بھی نقلی مکانی ( مائگریشن ) کہلاتا ہے۔ عموما طلبا اور ہنرمند طبقہ بالترتیب تعلیم وروزگار کے مواقع ڈھونڈنے کیلءے بیرون ممالک مائگریشن کرتا ہے۔

بھارتی شہریوں کا ملازمت کیلئے مائگریشن :

اقوام متحدہ محکمہ معاشی وسماجی امور کے 15 جنوری 2021 کی رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر میں سب سے زیادہ انٹرنیشنل مائگرنٹ بھارت سے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق، 18ملین بھارتی شہری بیرون ممالک میں مقیم ہیں۔

ایمگریشن ( ترک وطن ) کیلئے کون سے ممالک بہتر ہیں؟

اگر آپ اعلیٰ تعلیم یافتہ پروفیشنل ہیں تو ایمگریشن کیلئے یہ ایک سنہری موقع ہے۔ دنیا کی بڑی بڑی معیشتیں اپنے ممالک کی ترقی کو بلندی پر لے جانے کیلئے اعلیٰ تعلیم یافتہ پروفیشنلس کی تلاش میں ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور یوروپی ممالک نے مائگرنٹ دوستانہ پروگرام بنائے ہیں۔

کینیڈا :

کینیڈا دنیا کا سب سے مائگرنٹ دوستانہ ملک ہے۔ کینیڈا نے ہمیشہ سے بھارتی شہریوں کا استقبال کیا ہے اور کینیڈا میں مقیم بھارت نژاد باشندے کینیڈا کے معاشرے کا سب سے کامیاب حصہ ہے۔ کینیڈا کی حکومت فیملی کے ساتھ ملک میں بسنے کیلئے بہترین مواقع فراہم کرتا ہے۔ کینیڈا ایک خوبصورت ملک ہے جہاں مقامی باشندوں کیلئے مفت طبی سہولیات، مفت تعلیم اورمضبوط سماجی فلاحی نظام دستیاب ہے۔ مزید جانکاری کیلئے اس ویب سائیٹ کا ملاحظہ کریں۔

آسٹریلیا :

ڈاون انڈر کے نام جانا جانے والا ملک آسٹریلیا بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ پروفیشنلس کا پسندیدہ ممالک مکیں سے ایک ہے۔ زندگی گذارنے کے اعلیٰ معیاروالے شہروں کی عالمی فہرست میں آسٹریلیا کے دو بڑے شہر میلبورن اورسڈنی کا مستقل ذکر کیا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں آسٹریلیائی حکومت عالمی سطح پر اپنی چھاپ چھوڑنے کیلئے بڑے پیمانے پر جدیدکاری کررہی ہے۔ آسٹریلیا کے مستقبل کی ترقی کو یقینی بنانے کیلئے ہر شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جارہی ہے، اسلئے آسٹریلیا کو منتقلی کا یہ بہترین وقت ہے۔ آسٹریلیائی ویزا نظام کی مکمل معلومات اس ویب سائیٹ پر پڑھیں۔

برطانیہ :

بریکزٹ یعنی یوروپی یونین سے علاحیدگی اختیار کرنے پر برطانوی انتظامیہ کو بھلے ہی دھکہ لگا ہو لیکن اس جزیرہ نما ملک کو ہائی اسکلیڈ پروفیشنلس کی منتقلی کا سلسلہ نہیں تھما ہے۔ برطانوی حکومت نے تجارت، میڈیکل، انجنیئرنگ اور کاروباری تجربہ رکھنے والے پروفیشنلس کیلئے کئی ایک پروگرام لانچ کئے ہیں۔ مستقل رہائش یعنی ( Permanent Residency ) کیلئے اس سے بہترین وقت نہیں ملیگا۔ مزید معلومات کیلئے یہاں کلک کریں۔

دس سالہ گولڈن ویزا کیلئے سرمایہ کاروں کو امارات میں دس ملین عرب امارات درہم کا انوسٹمنٹ فنڈ یا کمپنی قائم کرنی ہوگی۔
دس سالہ گولڈن ویزا کیلئے سرمایہ کاروں کو امارات میں دس ملین عرب امارات درہم کا انوسٹمنٹ فنڈ یا کمپنی قائم کرنی ہوگی۔

امریکہ :

تارکین وطن کی ممالک کی فہرست میں امریکہ سرفہرست ہے۔ ہر شخص امریکن ڈریم کا حصہ بننا چاہتا ہے۔ تاہم، امریکہ کی مائگرنٹ ویزا کیلئے سخت مسابقت ہے۔ امریکہ جانے کے کئی راستے ہیں اور سب سے آسان راستہ ماسٹرس کی ڈگری کیلئے کسی امریکی یونیورسٹی میں داخلہ اور پھر ملازمت کی تلاش ہے۔ اور عمردراز پروفیشنلس کیلئے امریکہ کی کمپنی میں ملازمت حاصل کرنی ہوگی جو آپ کی ویزا کی درخواست کو اسپانسر کرے۔ مزید معلومات اس ویب سائیٹ پر دستیاب ہیں۔

متحدہ عرب امارات کا گولڈن ویزا :

امارات کا گولڈن ویزا نظام سرمایہ کاروں، انٹرپرینیورس، خداداد صلاحیتوں کے حامل محقیقین، میڈیکل پروفیشنلس، اور ہونہار طلبا کو دی جان طویل مدتی ( پانچ سے دس سال ) رہائشی ویزا ہے۔

گولڈن ویزا کیلئے درخواست کا کیا طریقہ کار ہے؟

گولڈن ویزا کے خواہشمند افراد فیڈرل اتھارٹی فار آئڈینٹیٹی اینڈ سٹی زن شپ کی ویب سائیٹ پر اپنی درخواست دے سکتے ہیں۔ اگر، آپ آف لائین ( روایتی طریقہ سے ) درخواست دینا چاہتے ہیں تو جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ریسی ڈینسی اینڈ فارین افیئرس سے رجوع کریں۔ ویزا کا عمل آسان ہے۔ امیدواروں کو ضروری کاغذات بتانے ہوں گے اور اپنے تجارتی وینچر کے مطابق، یو اے ای کو منتقل ہونا ہوگا۔

گولڈن ویزا کیلئے اہلیت کیا ہوگی؟

دس سالہ گولڈن ویزا کیلئے سرمایہ کاروں کو امارات میں دس ملین عرب امارات درہم کا انوسٹمنٹ فنڈ یا کمپنی قائم کرنی ہوگی۔ لیکن، اس سرمایہ کاری کا کم از کا کم از کم 60 فیصد حصہ نہ تو رئیل اسٹیٹ میں لگانا چاہئے اور نہ ہی یہ رقم لون پرلی گئی ہو۔ انوسٹمنٹ فنڈ یا کمپنی کا مالک سرمایہ کار ہی ہونا چاہئے۔

پانچ سالہ گولڈن ویزا کیلئے مندرجہ بالا شرائط ہوں گے، تاہم، سرمایہ کاری کی رقم گھٹاکر پانچ ملین عرب امارات درہم کردی گئی ہے۔