بنگلہ دیشی مسلم امریکن نصرت جہاں چوہدری وفاقی عدالت کی جج نامزد

Reading Time: < 1 minute

امریکی صدر جو بائیڈن نے ملک کی تاریخ میں پہلی بار ایک بنگلہ دیشی مسلم امریکی خاتون کو وفاقی جج کے طور پر نامزد کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ انکی انتظامیہ کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس میں کہ وفاقی عدالتوں کو متنوع شکل دینا ہے۔نصرت جہاں چوہدری نامی یہ خاتون امریکن سول لبرٹیز یونین(ACLU)الینائی کی لیگل ڈائریکٹر ہیں اور انھیں صدر بائیڈن نے امریکہ کے ڈسٹرکٹ کورٹ برائے ایسٹرن ڈسٹرکٹ آف نیویارک کے لیے نامزد کیا ہے۔

اگر امریکی سینیٹ نے نصرت کی نامزدگی کی منظوری دے دی تو وہ بطور فیڈرل جج فرائض انجام دینے والی پہلی مسلمان خاتون اور بنگلہ دیشی نژاد امریکی شہری ہوں گی۔وائٹ ہاوز کی جانب سے نصرت جہاں کی نامزدگی سے متعلق جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہیکہ ” پہلی بنگلہ دیش نژاد امریکی شہری کو بطور وفاقی جج نامزد کیا گیا ہے۔“

نصرت جہاں امریکن سیول لبرٹیز یونین نامی شہری حقوق ادارہ کے ایلینوائے چاپٹر کی موجودہ لیگل ڈائریکٹرہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت کے No-fly list پروگرام کو چیلنج کرنے والے مقدمات کی پیروی کی تھی۔ اس پروگرام کے تحت امریکہ کی FBI مسلم برادری کی مخبری کے لئے مسلمانوں پر زبردستی کررہی تھی اور جن لوگوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا، انتظامیہ نے ان کے خلاف انتقامی کارروائی کی تھی۔

حالیہ مراحل میں آٹھ نامزدگیاں ہوئی ہیں، جو کہ صدر بائیڈن کے ایک برس قبل صدر بننے کے بعد سے تیرہویں نامزدگی ہوگی۔ اس طرح صدر بائیڈن اب تک 83 عدالتی نامزدگیاں کرچکے ہیں اور یہ انکی انتظامیہ کی جانب سے مزید خواتین اور مختلف نسلوں کے لوگوں کو وفاقی عدالتوں میں لگانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔