Climate Change:کیا موسمیاتی تبدیلی سے ہماری زندگی پراثرپڑیگا؟

Reading Time: 3 minutes

موسم کیا ہے؟ یہ آب وہوا سے کیسے مختلف ہے؟

موسم سے مراد وہ وفضائی کیفیت ہے جو ہم روز بہ روز دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں، ایک روز بارش ہوتی ہے تو دوسرے روز تیز دھوپ دکھائٰ دیتی ہے۔ کبھی سردی تو کبھی گرمی محسوس ہوتی ہے۔ جبکہ آب وہوا مختلف سیزن میں مخلتف ہوتی ہے۔ ایک جغرافیائی علاقہ موسم گرما میں گرم اور خشک ہوسکتا ہے اور یہی مقام موسم سرما میں سرد ہوجائیگا۔

موسمیاتی تبدیلی کیا ہے؟

موسمیاتی تبدیلی سے مراد کسی جغرافیائی علاقہ کے عام موسم میں تبدیلی ہے۔ کسی مقام میں سال بھر میں ہونے والی بارش میں تبدیلی یا پھر کسی مہینے یا سیزن میں عمومی درجہ حرارت میں تبدیلی کا ہونا ہے ۔

زمین کی موسمیاتی تبدیلی کیا ہے؟

زمین کا مطالعہ کرنے والے محقیقین کے مطابق گذشتہ سو سالوں میں زمین کے درجہ حرارت میں ایک ڈگری فارن ہیٹ کے قریب اضافہ ہوا ہے۔ یہ تبدیلی بھلے ہی معمولی لگے لیکن زمین کے درجہ حرارت میں اس معمولی سی تبدیلی کے بہت بڑے اثرات ہوسکتے ہیں۔ زمین کے درجہ حرارت میں تبدیلی سے پہاڑوں پر جمع برف پگھلنے لگا ہے۔ بڑھتے درجہ حرارت کے سبب سمندروں کے پانی کی سطح بھی بڑھی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی، زمین کے درجہ حرارت میں طویل مدتی تبدیلی ہے۔ 1800 عیسوی سے انسانوں کی طرف سے فوزیل ایندھن جیسے کوئلہ، آئیل اور گیس کا استعمال موسمیاتی تبدیلی کی بنیادی وجوہات ہیں۔ فوزیل ایندھن جلانے سے گرین ہاوز گیسز کا اخراج ہوتا ہے جو زمین کو اپنی چادر میں لپیٹ لیتے ہیں، جس کے نتیجے میں سورج گرمی زمین کی آب وہوا میں پھنس کر رہ جاتی ہے اور زمین کا درجہ حرارت بڑھنے لگتا ہے۔ گرین ہاوز گیسز میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین شامل ہیں اور یہ گیسز کار سے نکلنے والے دھوئیں یا کوئلہ جلانے سے پیدا ہونے والے دھوئیں سے خارج ہوتی ہیں۔ شہروں کا کچرا جلانے سے بھی میتھین گیس کا اخراج ہوتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کی رفتارکو دھیمی کرنے یا روکنے کیلئے کیا کیا جارہا ہے؟

سال 2015 میں گلوبل وارمنگ کیلئے ذمہ دار گرین ہاوز گیسز میں کٹوتی کیلئے دنیا بھر کے 200 ممالک نے پیرس معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے میں عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسئس تک محدود کرنے پر اتفاق کیا گیا اور امیر ممالک موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور قابل تجدید توانائی کو اختیار کرنے کیلئے غریب دیشوں کو مالی امداد دیں گے۔

برطانیہ کے گلاسگو شہر میں اکتوبر 2021کو اقوام متحدہ کی کانفرنس آف پارٹیز ( COP26 ) چوٹی اجلاس میں دنیا بھر کے 100ممالک کے صدور نے عہد کیا کہ وہ بڑے پیمانے پر شجرکاری کرکے 2030تک جنگلات کے کٹاوسے ہوئے خسارے کی بھرپائی کی کوشش کریں گے۔ بھارت نے کہا کہ 2070 تک بھارت نیٹ زیرو ( Net zero ) کا ہدف حاصل کرلیگا۔ نیٹ زیرو سے مراد وہ وقت جب کسی ملک کی فضاء میں کاربن ڈائی آکسائیڈ جیسی گرین ہاوز گیسز کا بالکل بھی اخراج نہیں ہوگا۔ کرہ ارض کے درجہ حرارت کو بڑھنے سے روکنے کیلئے دنیا بھر کی حکومتوں کو فوری طور پرتوانائی کے قابل تجدید ذرایعے جیسے شمسی و فضائی توانائی کا استعمال کرنا ہوگا۔