Yemen crisis:یمن میں امن کب ہوگا؟ کیا ہے سعودی اورایران کی دلچسپی؟

Reading Time: 3 minutes

یمن میں سیاسی بحران کا آغاز

ستمبر 2014 میں حوثی باغیوں نے یمن کے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کرکے صدر عبد ربۃ منصور ہادی کی حکومت کو کالعدم قراردیا جس کے بعد سے ملک میں عسکری سرگرمیاں شروع ہوگئیں اور مارچ 2015 میں خانہ جنگی شروع ہوگئی۔ صدرہادی پہلے عدن شہر کو فرار ہوگئے اور وہاں سے سعودی عرب منتقل ہوگئے جہاں وہ جلاوطنی کی زندگی بسر کررہے ہیں۔ اور، تب سے یمن کی شورش میں ایک لاکھ کے قریب ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ چالیس لاکھ افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔

حوثی باغی کیوں لڑ رہے ہیں سعودی عرب سے؟

سعودی عرب کے مذہبی اثرورسوخ کی مخالفت کی وجہ سے یمن میں حوثی باغی وجود میں آئے۔ یمن کے زیدی شیعہ برادری کے حسین بدرالدین الحوثی نے 1990 کی دہائی میں حوثی تحریک کی داغ بیل ٖڈالی۔ یمن کے سپاہیوں نے 2004 میں حسین کو ہلاک کردیا تھا، تب سے انکے بھائی عبدالملک حوثیوں کی قیادت کررہے ہیں۔ شمالی یمن میں زیدی شیعہ کا سکّہ چلتا تھا، لیکن 70-1962 کی خانہ جنگی کے دوران حوثیوں دبدبہ ختم ہوگیا۔ یمن میں سلفیوں کے بڑھتے اثرورسوخ اوریمن کی بدعنوان حکومت کے خلاف زیدی گروپ نے عسکری سرگرمیاں تیز کردی۔ عرب اسپرنگ کے دوران یمن کے صدر پر کئی قاتلانوں حملوں کی کوشش کے بعد علی عبداللہ صالح کو 2012 میں مجبورا استعفیٰ دینا پڑا۔ حوثیوں کی عسکری طاقت بڑھنے کی وجہ سے صالح کی معزولی کے بعد حوثیوں نے عبوری حکومت کے مذاکرات سے دستبرداری حاصل کرلی اور 2014 میں سابق دشمن علی عبداللہ صالح کی مدد سے راجدھانی صنعا پر کنٹرول کرلیا اورایک سال بعد نئے صدر عبد ربہ منصورہادی کی حکومت گرادی۔

یمن میں سعودیہ کی فوجی مداخلت

یمن میں جنگ کا آغاز26 مارچ 2015 کو ہوا مملکت سعودیہ کی قیادت میں عرب اتحاد کی فوج نے حوثیوں کو ہٹاکر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہادی کی حکومت کو بحال کرنے کیلئے ‘ فیصلہ کن طوفان ‘ نام سے فوجی آپریشن لانچ کیا۔ مملکت سعودیہ 1920 سے ہی یمن پر کنٹرول کرنے میں دلچسپی دکھا رہا تھا۔ سعودی عرب کی دلچسپی کا اہم سبب آبنائے باب المندب ہے جو بحراحمر کو بحر ہند سے جوڑتا ہے اورآئیل کو ایکسپورٹ کرنے کیلئے سعودی عرب کا اہم گیٹ وے ہے۔

یمن کی جنگ سے انسانی بحران میں کس قدر اضافہ ہوا؟
75 فیصد غربت کی شرح والا ملک یمن کئی دہائیوں سے عرب دنیا کا سب سے غریب ملک رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے رفیوجی ادارے کے مطابق، ہر تین میں سے دو یمنی شہریوں کو امداد اور تحفظ درکار ہے۔ گذشتہ چار سال سھے اتحادی فورس کی جانب سے لگائی گئ پابندوں کے نتیجے میں غذائی اجناس اور دوائیوں کی سپلائی متاثر ہونے سے ملک کے حالات بد سے بدتر ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، پانچ سال سے کم عمر کے قریب 23 لاکھ بچے غذائیت کا شکار ہوگئے ہیں جن میں سے چار لاکھ بچوں کا علاج نہ ہونے سے انکی جان جاسکتی ہے۔ ملک کے ساڑھے تین ہزار اسپتالوں میں سے آدھے دواخانے بند پڑے ہوئے ہیں اور بیس فیصد اضلاع میں ڈاکٹر بھی دستیاب نہیں ہے۔ اتحادی فورس کے بلاکیڈ کے سبب، ملک میں پٹرول کا بحران پیدا ہوجانے سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھورہی ہیں۔

یمن بحران کے حل کے کیا امکانات ہیں؟

اقوام متحدہ کی تائید سے کئے گئے امن مذاکرات میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ 2018 کا اسٹاک ہوم معاہدے سے بندرگاہ والے الحدیدہ شہر میں جنگ کو روک دیا گیا لیکن معاہدے کی دفعات کو نافذ کرنے میں بہت کم کامیابی ملی ہے۔ معاہدے کی دفعات کے مطابق، پندرہ ہزار سے زائد قیدیوں کا تبادلہ اور تعز شہر میں تشدد میں کمی لانے کیلءے مشترکہ کمیٹی کی تشکیل کیا جانا تھا۔ مبصرین کے مطابق، علاقائی حریف سعودی عرب، ایران اور متحدہ عرب امارات کی آپسی رقابت کے نتیجے میں یمن جنگ طویل ہوتی جارہی ہے۔ جنگ کے حالات 2019 کے اواخر میں اس وقت شدید خراب ہوگئے جب حوثیوں نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر میزائیل حملے کا دعویٰ کیا۔ اقوام متحدہ کے نگران کاروں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ حوثیوں نے یہ حملہ نہیں کیا ہے، دوسری جانب سعودی عرب نے حملے کیلئے ایران کو مورد الزام ٹھرایا ہے۔ یمن کی جنگ کو شیعہ ایران اور سنّی سعودی عرب کے بیچ طاقت کی لڑائی کے طور پر دیکھا جارہا ہےؕ۔ اورسعودی عرب اور ایران کے بیچ بہتر تعلقات یمن میں امن کا ضامن ہوسکتے ہیں۔