5G ٹکنالوجی کیا ہے اور اسے کب لانچ کیا جائیگا؟

Reading Time: 2 minutes

5G ٹکنالوجی کیاہے اور اسے کب لانچ کیا جائیگا؟

5G یعنی سیلولر موبائیل کمیونکیشن کا پانچواں جنریشن نیٹ ورک۔ یہ نیٹ ورک کئی نئی ٹکنالوجیاں استعمال کرتا ہے اسلئے اسکی اسپیڈ 4G سے بھی زیادہ تیز ہے۔ اس ٹکنالوجی کے آنے سے روزمرہ کے استعمال کے اسمارٹ ڈیوائسوں کا بہتر استعمال کیا جاسکے گا۔ فون پر ویڈیو بھیجنے کی اسپیڈ بھی غیرمعمولی طور پر بڑھ جائیگی۔ ٹیلی کام کمپنیاں جیسے بھارتی ائیر ٹیل، ریلائنس جیو اور ووڈافون آئیڈیا ملک میں اس جدید ٹکنالوجی کی مشقیں کررہی ہیں۔ سال 2022 تک میں ملک میں 5G ٹکنالوجی کا استعمال عام ہونے کا امکان ہے۔

انسانی صحت کیلئے کیا 5G ٹکنالوجی مضرہے؟

اداکارہ جوہی چاولہ کے علاوہ کئی لوگوں نے دعویٰ کیا ہیکہ 5G ٹکنالوجی جتنی طاقتور ہے اس سے اتنی ہی مقدار میں ریڈئیشن کا اخراج ہوتا ہے۔ یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ اس جدید ٹکنالوجی کیلئے مزید موبائیل ٹاورس کی ضرورت پڑیگی۔ لوگوں میں غلط فہمی ہیکہ سیلولر ٹاورس سے انسانوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ موبائل ٹاورس غیر آئیونی ریڈیو فریکوئینسی کا اخراج کرتے ہیں جو بہت کم طاقت رکھتے ہیں اور انسانوں سمیت زندہ خلیوں کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچانے سے قاصر ہیں۔ بلاشبہ زیادہ ریڈئیشن ( یعنی آئیونی ریڈئیشن ) انسانی جلد کے خلیوں کو جلاسکتا ہے اور کینسر کا سبب بن سکتا ہے۔

سی ٹی اسکین کی مشین یا ایکس رے مشین میں اسی نوعیت کے خطرناک سطح کا ریڈئیشن اخراج ہوتا ہے اسلئے ڈاکٹر آپ کو باربار سی ٹی اسکیان کا مشورہ نہیں دیتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے 5G ٹکنالوجی پر کہا ہیکہ وائرلیس ٹکنالوجی کے استعمال سے انسانوں کی صحت کو ضرر پہنچنے کی ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ہے۔ تاہم، انسانی صحت پر 5G ٹکنالوجی کی فریکوئنسی کے اثرات سے متعلق مزید ریسرچ کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں