دیوہیکل جسامت کا شہاب ثاقب زمین کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ناسا کی وارننگ

Reading Time: 2 minutes

نیشنل ائروناٹیکس اسپیس ایجنسی ( NASA ) نے خبردار کیا ہیکہ فٹ بال کے میدان سے تین گنا بڑا اور دوبئی کے برج خلیفہ کے برابر اونچائی والا شہاب ثاقب رواں سال دسمبر میں کرہ ارض سے گذرے گا۔ تاہم، شہاب ثاقب سے زمین کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ 4660 نیرئیس نامی شہاب ثاقب کوناسا نے نقصان پہنچانے والا شہاب ثاقب قراردیا ہے۔ ناسا کے محقیقین کے مطابق،خلا میں پائے جانے والے نوّے فیصد شہاب ثاقب، نیرئس سے چھوٹے ہوتے ہیں۔

نیرئس شہاب ثاقب کی دریافت کب ہوئی؟

امریکی ماہر فلکیات الینور ایف۔ ہیلن نے 1982 میں نیرئس شہاب ثاقب کی دریافت کی جو مبینہ طور پر شہاب ثاقب کے اپولو گروپ کا حصہ ہے اور اس گروپ کے تمام شہاب ثاقب سورج کے اطراف مدار میں گھومتے ہیں اسلئے ان کا کرہ ارض سے گذر ہوتا رہتا ہے۔ عام طور پر شہاب ثاقب ہر 664 ویں دن سورج کے اطراف گردش کرتے ہیں جبکہ اس نیرئس شہاب ثاقب کے بارے میں قیاس کیا جارہا ہیکہ گیارہ دسمبر کو زمین سے گذر جانے کے بعد اگلے دس سالوں تک زمین کے قریب سے نہیں گذرے گا۔ لیکن چالیس سال کے بعد جب اس نیرئس شہاب ثاقب کا فروری 2060 میں کرہ ارض سے گذر ہوگا اس وقت یہ زمین کے بالکل قریب ہوجائیگا۔ ستمبر میں جو شہاب ثاقب زمین کے قریب سے گذرا تھا اس کا سائز بیگ بین کلاک ٹاو کے برابرتھا اور اسکی رفتار پچاس ہزار میل فی گھنٹہ تھی۔

کیا کوئی شہاب ثاقب زمین سے ٹکرایا ہے؟

شہاب ثاقب سے کرہ ارض کو خطرے کا کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ہے۔ ناسا کے سیارتی دفاعی ماہر ڈاکٹر کیلے فاسٹ کے مطابق، جب سے زمین وجود میں آئی ہے تب سے بے شمار شہاب ثاقب زمین سے ٹکرائے ہیں اور آگے بھی ٹکراتے رہیں گے۔ ڈسٹ، میٹی رائیڈس اور حتّٰی کہ چھوٹے چھوٹے شہاب ثاقب زمین سے ٹکراتے ہیں اور پھر یہ میٹیئرس میں تبدیل ہوجاتے ہیں جسے حرف عام میں شوٹنگ اسٹارس بھی کہا جاتا ہے اور پھریہ آب وہوا میں ملکر غائب ہوجاتے ہیں۔

شہاب ثاقب سے دفاع کا ناسا کے پاس کوئی نظام ہے؟

امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے دنیا کا پہلا سیارتی دفاعی ٹسٹ مشن تیار کیا ہے جسے DART کا نام دیا گیا ہے۔

DART مشن خلا میں گردش کررہے ڈیڈی موس شہاب ثاقب کے ساتھ گھوم رہے چھوٹے شہاب ثاقب ڈائی مارفوس سے ٹکرا کر اسکے مدار کی سمت تبدیل کردیگا۔ ڈیڈی موس شہاب ثاقب کی چوڑائی 780 میٹر جبکہ ڈائی مارفوس کی چوڑائی 160 میٹرہے۔ ستمبر 2022 میں ڈیڈی موس شہاب ثاقب کرہ ارض سے گیارہ ملین کلو میٹر کے فاصلے پرآجائیگا اور تب ناسا کا DART مشن ڈیڈی موس شہاب ثاقب سے ٹکراکر اسکی زمین کی طرف سمت کو دوسری جانب موڑ دیگا۔