خلائی ملبہ (space debris) کیا ہے ؟ اس سے دنیا کو کیا خطرہ ہوسکتا ہے؟

Reading Time: 3 minutes

حالیہ دنوں میں روس نے خلا میں ایک میزائیل ٹسٹ کرتے ہوئے اپنے ہی ایک سیٹلائیٹ ( Kosmos 1408 ) کو تباہ کردیا۔ بین الاقوامی سطح پراس کاروائی کی شدید مذمت کی گئی کیوں کہ تباہ شدہ پرزے زمین کے قریبی مدار میں گردش کررہے ہزاروں سیٹلائیٹس اور انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن ( ISS ) کو خطرہ پہنچاسکتے ہیں۔ اینٹی سیٹلائیٹ سسٹم استعمال کرنے والا روس پہلا ملک نہیں ہے۔ سنہ 2007 میں چین نے بھی موسمیات کی تفصیلات دینے والے اپنے ایک سیٹلائیٹ کو میزائیل مار کر تباہ کردیا تھا۔ اس دھماکے کی وجہ سے سیٹلائیٹ کے تین ہزار ذرات پیدا ہوگئے تھے۔ مدار میں گردش کررہے جن خلائی پرزوں سے ( ISS) کو خطرہ ان میں سے ایک تہائی پرزے چین کے تجربے سے نکلنے والے ذرات ہیں۔ یہ تمام چھوٹے بڑے ذرات کئی کلومیٹر فی سکینڈ کی رفتار سے مدار میں گردش کررہے ہیں جوایک اسپیس کرافٹ کو تباہ کرسکتے ہیں۔ سنہ 2019 میں انڈیا نے بھی مشن شکتی نام سے لوئیرآربٹ میں اپنے ہی ایک سیٹلائیٹ کو تباہ کرنے کا تجربہ کیا تھا۔

خلائی ملبہ کیا ہے؟

سنہ 1950 کی دہائی میں خلائی دور کے آغاز کے بعد سے سائنس دانوں نے خلا میں ہزاروں راکٹ اور اس سے کہیں زیادہ سیٹلائیٹ چھوڑے ہیں۔ انسانوں کی طرف سے خلا میں ترک شدہ کسی بھی مشینی پرزے کو خلائی ملبہ کہا جاتا ہے۔ یہ ناکارہ سیٹلائیٹ بھی ہوسکتے ہیں جو مشن کے پورا ہونے کے بعد ناقابل استعمال ہوگئے یا پھر خلا میں بھیجے گئے راکیٹ کے زنگ کے ٹکڑے وغیرہ بھی ہوسکتے ہیں۔

خلا میں خلائی ملبہ کیسے داخل ہوتا ہے؟

تمام خلائی ملبہ زمین سے خلا میں راکٹ اور سیٹلائیٹس کے داغے جانے کا نتیجہ ہے اور یہ خلائی ملبہ کرہ فضا میں دوبارہ داخل ہونے تک خلا میں گردش کرتا رہتا ہے۔ زمین سے چند سو کلومیٹر فاصلے پر نچلے مدار میں موجود اشیا کرہ فضا میں فوری لوٹ آتی ہیں یا پھر کرہ ارض میں داخل ہونے سے پہلے جل کرتباہ ہوجاتے ہیں اور زمین سے 36 ہزار کلومیٹر کی بلندی پر خلا میں چھوڑے گئے سیٹلائیٹ ( جہاں جیو اسٹیشنری مداروں میں مواصلاتی اور موسمیاتی سیارچوں کو چھوڑا جاتا ہے ) کئی سینکڑوں حتّٰی کہ کئ ہزار سالوں تک بھی زمین کے اطراف گردش کرتے رہتے ہیں۔ سنہ 1957 سے سائنس دانوں نے خلا میں 5000 سے زائد سیٹلائیٹ خلا میں داغے ہیں۔ جب دو سیٹلائیٹ آپس میں ٹکراتے ہیں تو ان کے ہزاروں پرزے پیدا ہوتے ہیں، لیکن ایسا بہت کم دیکھنے میں آتا ہے۔ تاہم امریکہ، چین، انڈیا اور روس کے اینٹی سیٹلائیٹ تجربوں کی وجہ سے خلا میں ڈھیر سارا ملبہ جمع ہوگیا ہے۔

خلائی ملبہ کیسے صاف کیا جاسکتا ہے؟

اقوام متحدہ (UN) نے تمام کمپنیوں کو ہدایت دی ہیکہ وہ مشن کی تکمیل کے 25سال کے اندراندر خلائی مدار سے اپنے سیاروں کا نکال لیں۔ کئی کمپنیوں نے ناکارہ سیٹلاٹس کو نکالنے کیلئے ایک نیا طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے۔ مدار میں گردش کرتے ہوئے غیر استعمال شدہ سیٹلائیٹ کو کرہ ارض میں لانے کیلئے Harpoon ایک بڑا طاقتور جال کا استعمال یا پھر مقناطیسوں کا استعمال کرنے یا پھر سیٹلائیٹ پر لیزر کی فائرنگ کرنے پرغور کررہے ہیں تاکہ اس سے سیٹلائیٹ کا درجہ حرارت بڑھ جائے اور وہ اپنے مدارسے نکل کر کرہ فضا میں شامل ہوجائے۔ تاہم یہ تجربے صرف زمین کے اطراف گردش کررہے بڑے سیٹلائیٹوں کیلئے قابل استعمال ہیں۔ راکٹ کے بیرونی حصہ پر لگے رنگ کے ٹکڑے اور اس کی دھات کے دیگر حصوں کو مدار سے نکالنا مشکل کام ہے۔ ہمیں صرف انتظار کرنا ہوگا کیوں کہ ایک وقفے کے بعد گردش کرتے کرتے ان پرزوں کا مدار تبدیل ہوگا اور یہ پرزے دوبارہ کرہ فضا میں شامل ہوجائیں گے۔

کیا خلائی ملبہ سے کوئی خطرہ ہے؟

خلائی ملبہ سے خلا میں بھیجے جانے والے اسپیس کرافٹ کو بظاہر خطرہ نظر نہیں آتا ہے۔ تاہم اس سے کرہ ارض کے اطراف خلائی چکر لگانے والے سیارچوں کیلئے کافی مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ کرہ ارض کا مشاہدہ کرنے اور مواصلات کیلئے زمین سے ہزار کلومیٹر کی بلندی پر گردش میں مدار کررہی خلائی اشیا کیلئے خطرہ بن سکتا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق انسان مریخ کا سفر کرسکتا ہے کیوں کہ اسپیس کرافٹ خلائی ملبے والے علاقے سے برق رفتاری سے گذر جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں