سکھ برادری کو ’خالصتانی دہشت گرد‘ قرار دینا کنگنا راوت کو پڑا مہنگا ۔دہلی اسمبلی کی کمیٹی نے اداکارہ کو کیا طلب

Reading Time: 2 minutes

دہلی اسمبلی کی امن اور ہم آہنگی کمیٹی نے فرقہ وارانہ انتشار اور نفرت پھیلانے کے الزام میں اداکارہ کنگنا راناوت کو 6 دسمبر کو کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے لیے سمن جاری کیا ہے دہلی کے رکن اسمبلی راگھو چڈھا کی سربراہی میں امن اور ہم آہنگی کمیٹی نے کنگنا راناوت کو پیش ہونے کے لیے بلایا ہے تاکہ موجودہ مسئلے پر زیادہ جامع اور بہتر انداز میں بات چیت کی جاسکے سمن جاری کرکے اداکارہ کو 6 دسمبر کو دوپہر 12 بجے پیش ہونے کے لیے طلب کیا گیا ہے۔

دہلی اسمبلی کی امن اور ہم آہنگی کمیٹی کو اداکارہ کنگنا کی جانب سے ان کے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ، ‘کنگنا راناوت’ پر مبینہ طور پر توہین آمیز پوسٹ کے حوالے سے کئی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ شکایت کنندگان کے مطابق کنگنا راناوت کے انسٹاگرام اکاؤنٹ کی رسائی بہت زیادہ ہے۔ اسے دنیا بھر میں تقریباً 80 لاکھ افراد فالو کرتے ہیں۔ کنگنا نے مبینہ طور پر اپنی پوسٹ سے سکھ برادری کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے جس سے معاشرے کے امن اور ہم آہنگی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

شکایات میں کہا گیا ہے کہ کنگنا رناوت نے مبینہ طور پر سکھ برادری کو ’خالصتانی دہشت گرد‘ قرار دیا ہے۔ جس کی وجہ سے سکھ برادری کے لوگوں کی توہین ہوئی ہے۔ ان کے ذہنوں میں سلامتی، زندگی اور آزادی کے بارے میں بھی خوف پیدا ہو گیا ہے۔ کنگنا راناوت نے 20 نومبر کو یہ اسٹوری پوسٹ کی، جس میں لکھا گیا کہ خالصتانی دہشت گرد آج حکومت کے ہاتھ مروڑ سکتے ہیں۔ لیکن انھیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ایک خاتون نے انہیں اپنی جوتی تلے کچل دیا تھا۔ خواہ کتنی ہی مصیبتیں آئیں لیکن اس نے اپنی جان کی قیمت پر انھیں مچھروں کی طرح کچل دیا۔ لیکن ملک کے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہونے دیا۔ ان کی موت کے بعد بھی کئی دہائیاں گذرنے کے باوجود آج اس کے نام سے کانپتے ہیں۔ انھیں ویسا ہی گرو (استاد) چاہیے۔

یو این آئی