Hate on Club House: کلب ہاؤس کی بحث میں مسلم خواتین کو بنایا گیا نشانہ ، اب ایکشن میں ہے دہلی خواتین کمیشن

Reading Time: 2 minutes

’بلّی بائی ایپ‘ میں پولیس کی سخت کارروائی اور گرفتاریوں کے بعد اب اس طرح کے کئی اور معاملے بھی منظر عام پر آ رہے ہیں اور مسلم کمیونٹی کی لڑکیوں کے خلاف قابل اعتراض تبصرے کرنے اور سوشل میڈیا پر بے حیائی پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

ایسے ہی ایک معاملے میں، عام آدمی پارٹی لیڈر اور دہلی ویمن کمیشن کی سربراہ سواتی مالیوال نے منگل (18 جنوری 2022) کو دہلی پولیس کو ایک نوٹس جاری کیا ۔جس میں انہوں نے ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ‘کلب ہاؤس’ پر مسلم خواتین پر قابل اعتراض تبصرے کیے جارہے ہیں ۔ ‘کلب ہاؤس’ پر کیے گئے متنازعہ ریمارکس کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیاہے۔


اس نوٹس میں سواتی مالیوال نے لکھا ہے کہ ‘کلب ہاؤس’ نامی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کچھ لوگوں کی جانب سے خواتین کے بارے میں گفتگو چل رہی تھی، جس میں اس گفتگو کا موضوع تھا ‘مسلمان لڑکیاں ہندو لڑکیوں سے زیادہ خوبصورت ہیں؟۔

سواتی نے مزید لکھا کہ اس گفتگو میں شامل لوگوں کو بہت سے گالی گلوچ، فحش اور قابل اعتراض زبان استعمال کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے اور اس قسم کی زبان خواتین اور خاص طور پر مسلم کمیونٹی کی خواتین کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔ سواتی کا کہناہے کہ کچھ لوگوں نے اس گفتگو کا ویڈیو بنایا، جس کی وجہ سے نوٹس لیا جا رہا ہے۔ سواتی نے اسے انتہائی سنگین معاملہ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

سواتی مالیوال نے دہلی پولیس سے کہا کہ وہ خواتین کمیشن کے سامنے کچھ اہم چیزیں پیش کریں، جس میں اس معاملے میں کی گئی ایف آئی آر کی کاپی اور ملزمان کی شناخت اور ان کی گرفتاری کے بعد ان کی تفصیلات شامل کی جائے


اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ اگر کوئی ملزم گرفتار نہیں ہوتا ہے تو اس کی وجوہات بتائی جائیں اور اس کیس کی تفتیش بھی تفصیل سے بتائی جائے۔ دہلی پولیس کو اس سلسلے میں وضاحت دینے کے لیے 14 جنوری 2022 تک کا وقت دیا گیا ہے۔بتادیں کہ ابھی تک اس نوٹس پر دہلی پولیس کے کسی افسر یا محکمہ کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے